ٹک ٹاک سٹار غنی ٹائیگر کے والد کو کیوں قتل کیا گیا، تفصیلات آ گئیں

سیالکوٹ: چند روز قبل پنجاب کے ضلع سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے غنی ٹائیگر کے والد کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا جس کی تفصیلات اب سامنے آئیں ہیں۔ ٹک ٹاک سٹار غنی ٹائیگر نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے والد کو دراصل بچوں کے جھگڑے کے بعد قتل کیا گیا۔ غنی ٹائیگر نے بتایا کہ ماہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں محلے کے دو بچوں کے درمیان جھگڑا ہوا جن میں سے ایک بچے کا تعلق ان کے خاندان میں سے تھا اور اس سے پہلے بھی ایسے واقعات پیش آ چکے تھے لیکن اس بار انہیں سمجھ نہیں آیا کہ بات اس حد تک کیسے بڑھ گئ۔

غنی ٹائیگر کا کہنا تھا کہ بچوں کے جھگڑوں کا علم نہ صرف انہیں تھا بلکہ ان کے دیگر اہل خانہ کو بھی تھا اور انہوں نے ہی اپنے والد اور چچا کو بتایا کہ وہ بچوں کے جھگڑے کے معاملے پر سب میں صلح کروادیں گے۔غنی کا کہنا تھا کہ جس وقت ان کے والد کو قتل کیا گیا، اس سے کچھ دیر قبل ہی وہ والد سے بات کر رہے تھے اور انہیں بتا رہے تھے کہ وہ بچوں کے جھگڑے کی صلح کروادیں گے اور اسی دوران ہی باہر سے لڑنے جھگڑنے کی آوازیں آئیں تو وہ گھر سے نکل آئے۔

غنی ٹائیگر نے دعوی کیا کہ جیسے ہی وہ گھر سے باہر آئے تو انہوں نے اپنے ہی ایک دوست کو گولی لگنے کے بعد زخمی حالت میں دیکھا اور پھر اچانک ان کے ایک کزن کو بھی گولی لگی اور وہ بھی زخمی ہوگئے، انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گولیاں کس طرف سے کون چلا رہا ہے۔غنی کے مطابق بچوں کی لڑائی پر دوسری پارٹی کے لڑکوں نے طلبہ تنظیم انجمن طلبہ اسلام (اے ٹی آئی) کا نام استعمال کرکے دیگر لڑکوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا اور تقریبا 11 لڑکے ان کے محلے میں آئے اور ان کی فائرنگ سے پورا محلہ گونج اٹھا۔

اور جب حالات کشیدہ ہوگئے تو ان کے والد بھی گھر سے نکل آئے اور پھر ان پر بھی کسی نے گولی چلادی اور ان کے والد زندگی کی بازی ہار گئے۔ اور گولی لگنے کے بعد ان کے سر پر ڈنڈا بھی مارا گیا، ان پر بیہمانہ تشدد کیا گیا۔غنی ٹائیگر کا کہنا تھا کہ جن لڑکوں نے فائرنگ کی وہ ان کے پرانے دوست تھے، کبھی وہ سب مل کر ایک ساتھ کھیلتے تھے