کلائی کے چھوٹے سے زخم نے اکبربادشاہ کی جان بچا لی

تاریخ میں ہر بادشاہ اور حکمران نے اپنے دربار میں مختلف لوگوں کو اپنے قریب رکھا جن کے مشورے سے وہ کوئی بھی شاہی فرمان جاری کرتے۔

تاریخ میں مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے نو رتن بھی بہت مشہور ہوئے، یہ 9 لوگ اکبر کو زہانت اور دانا کی وجہ سے بہت پسند تھے۔ انہیں 9 لوگوں میں ایک بیربل بھی تھا جس کی حاضر جوابی اور زہانت کی وجہ سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ یہ واقعہ بھی بیریل اور اکبر سے ہی منسوب ہے۔

تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک دن بادشاہ اکبر سیب کاٹ رہا تھا۔ اچانک توجہ دوسری طرف گئی تو چاقو اس کی کلائی پر لگا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ پاس کھڑے بیریل نے جب دیکھا تو اس کے منہ سے اچانک شکر الحمدللہ نکل گیا۔ اکبر نے غصے سے اسکی طرف دیکھا اور پوچھا کہ میں زخمی ہوا ہوں اور تم اللہ کا شکر ادا کر رہے ہو؟۔

بیربل نے جواب دیا، جناب میں نے بڑوں س سنا ہے کہ چھوٹی مصیبت انسان کو کسی بڑی مصیبت سے بچا لیتی ہے۔ اگر آپ کی کلائی پر زخم آیا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے آپکو کسی بڑی مشکل سے بچا لیا ہے۔

اکبر کو بیربل کی یہ بات سمجھ نہ آئی اور غصے میں اس نے بیربل کو زندان میں ڈلوا دیا اور خود اگلے دن شکار پر چلا گیا، جنگل میں شکارکے دوران بادشاہ اکبر اور اس کے کچھ درباری اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور ایک وحشی قبیلے نے انہیں پکڑ لیا۔

قبیلے نے اکبر اور اس کے ساتھیوں کو اپنی دیوی کے لیے قربان کرنےکا فیصلہ کیا اور اکبر کے ساتھیوں کی گردنیں اتار دیں۔ جب بادشاہ کی باری آئی تو اس کی کلائی پر بندھی پٹی دیکھ کر قبیلے کے سردار نے پوچھا کہ یہ پٹی کیوں ہیں، جس پر بادشاہ اکبر نے بتایا اس کی کلائی زخمی ہوئی تھی۔

اکبر کا جواب سننے کے بعد قبیلے کے سردار نے مایوسی میں سر ہلایا اور اکبر کو جانے کی اجازت دے دی۔ قبیلے کے سردار نے کہا کہ ہم زخمیوں کو اپنی دیوی پر قربان نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹڈی دل ، آپ کا مال اور زکوٰۃ

تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس طرح اکبر کی زخمی کلائی نے اس کی جان بچا لی اور تب اس کو بیربل کی وہ بات یاد آئی۔ اکبر نے واپس آتے ہی بیربل کو زندان سے نکالا اور اس سے معزرت کی۔