ساٹھ سال بعد لائبریری کو کتاب واپس کرنے والی خاتون کا نام گنیزبک میں لکھ لیا گیا

امریکہ: 60 سال بعد لائبریری کو کتاب واپس کرنے والی خاتون کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کر لیا گیا۔

کتابیں پڑھنے کے شوقین افراد کتابوں کو واپس کرنے میں بہت سست پائے جاتے ہیں اور کتابوں سے محبت کونے والوں کو یہ کام بہت مشکل لگتا ہے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کتابوں کے شوقین افراد کتاب کو واپس کرنا ہی بھول جاتے ہیں۔

امریکہ کی ریاست الینوائے میں بھی ایک ایسا ہی دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ امریکی خاتون ایملی کینی نے اپنے گھر میں بچوں کی نظموں پر مشتمل کتاب ”ڈے اینڈ ڈیڈز” دیکھی جس پر کیوانی پبلک نامی لائبریری کی مہر لگی ہوئی تھی جو 19 اپریل 1955 کو لی گئی تھی۔

یہ کتاب ایملی کی والدہ نے لی تھی جس کی اجرت 2 سینٹ فی دن تھی، جب ایملی نے یہ کتاب لائبریری کو واپس کی تو انہوں نے 347 ڈالر جرمانہ بھی کیا جو کہ ایملی نے ادا کیا۔

کسی بھی کتاب کو تاخیر سے لوٹانے کی وجہ سے یہ اب تک کا سب سے زیادہ جرمانہ ہے جس کی وجہ سے ایملی کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کو رہا کرنے کا حکم

دوسری طرف کتاب کو سب سے زیادہ تاخیر سے واپس کرنے کا اعزاز امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کے پاس ہے۔ جنہوں نے 1970 میں نیو یارک لائبریری سے صدر بننے کے بعد” دی لاء آف نیشن” نامی کتاب لی تھی لیکن کبھی واپس نہیں کی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد جب ان کی اشیاء کو تاریخی ورثہ قرار دیا گیا تو انتظامیہ نے 221 سال بعد یہ کتاب لائبریری کو واپس کی۔