رحمان ملک نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی اور یوسف رضا گیلانی نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا، امریکی خاتون سنتھیا رچی کا الزام

اسلام آباد: امریکی بلاگر اور سوشل میڈيا ایکٹوسٹ خاتون سنتھیا رچی نے انکشاف کیا ہے پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک نے ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اورمخدوم شہاب نے مجھ پر جنسی تشدد کیا۔

پیپلز پارٹی کی قائد بینظیر بھٹو شہید کے بارے میں متنازعہ بیانات کی وجہ سے شہرت پانے والی امریکی بلاگر خاتون پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں سمیت آصف زرداری کے بارے میں بھی متنازعہ اور نازیبہ بیانات دے رہی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے لوگ مجھے گھٹیا قسم کے پیغامات اور تصویریں بھیج رہے ہیں اور میری لوکیشن جاننے کی کوشش کر رہے ہیں، مجھے جنسی طور پر حراساں کونے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکی خاتون نے اپنے پیغام میں کہا کہ 2011 میں سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شہاب نے ایوان صدر میں ہوتے ہوئے مجھ پر جنسی تشدد کیا، میں ان سارے واقعات کے ثبوت غیر جانبدارانہ صحافت کرنے والے صحافیوں کے ساتھ شیئر کروں گی۔

خاتون کا کہنا ہے کہ میں پہلے ہی ان واقعات کی تفصیلات اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ شیئر کر چکی ہوں اگر مجھے کچھ ہوا تو ساری معلومات ان کے پاس محفوظ ہوں گی اور وہ دنیا کے سامنے لائیں گے۔

سنتھیا رچی نے واقعہ کی تفصیل بتاتےہوئے کہا کہ 2011 میں مجھے وزیر داخلہ کی طرف سے ملنے کے لیے بلایا گیا، مجھے لگا کہ میرے ویزے کے لیے بلایا گیا ہے لیکن وہاں میرے مشروب میں نشہ آور چیزیں ملا دی گئیں اور میری فیملی کو بھی ان کی طرف سے دھمکیاں دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کو میں نے 2011 میں ہی امریکی سفارتخانے کو بتایا لیکن اس وقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پیچیدہ ہونے کی وجہ سے اس معاملے پر کوئی جواب نہ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: انگریز کی پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کو گالیاں، پاکستانی کے رویے نے دل جیت لیے

ان کامزید کہناتھا کہ میں یہ سب ان لوگوں کے لیے کر رہی ہوں جن کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر تشدد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کرنے کی وجہ وہ تیسری جنس بھی ہیں جن کو ایسی زندگی جینے پر مجبور کیا جاتا ہے جو وہ جینا نہیں چاہتے اور انکو مردوں کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔