برطانیہ میں پہلی بار حجاب کرنے والی خاتون جج کے عہدے پر فائز

لندن: برطانیہ کی تاریخ میں پہلی بار حجاب کرنے والی خاتون کو جج کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق حجاب پہننے والی خاتون برطانوی نژاد پاکستانی رافعہ ارشد ہیں، گزشتہ ہفتے 40 سالہ رافعہ ارشد کو ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج تعینات کیا گیا۔ رافعہ ارشد نے بتایا کہ وہ 17 سال سے قانون کے شعبے میں کام کر رہی ہیں، انہوں نے بتایا کہ شروع میں مجھے خوف تھا کہ شائد میرا تعلق پاکستان سے ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا جائے ۔

انہوں نے میڈيا کو بتایا کہ مجھے بہت ساری حجاب کرنے والی خواتین نے مبارکباد کے خط لکھیں ہیں اور میری اس تعیناتی سے حجاب کرنے والی خواتین کا حوصلہ بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا نظام کے اندر امتیازی سلوک سے متعلق خامیاں موجود ہيں اور مجھے ابھی بھی کئی دفعہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رافعہ ارشد نے بتایا کہ جب کیریئر کے شروع میں انٹرویو کے جانے لگی تو رشتہ داروں نے حجاب کرنے سے منع کر دیا اور کہا کہ حجاب کے بغیر جانا۔ انہوں نے 2002 میں لندن میں تربیت حاصل کرنے کے بعد 2004 میں فیملی لاء چیمبر میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں 19 سالہ مسلمان لڑکی کے قتل میں ملوث 2 ا‌فراد گرفتار

خیال رہے کہ رافعہ ارشد 3 بچوں کی ماں اور ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں۔