طیارہ اس لیے حادثے کا شکار ہوا کیونکہ پائلٹ نے ہماری ہدایات کو نظر انداز کیا، ٹریفک کنٹرولر

کراچی: حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی تفتیش جاری ہے اسی دوران ائیر ٹریفک اور اپروچ کنٹرولر نے کہا ہے کہ پائلٹ نے بار بار ہماری ہدایات کو نظر انداز کیا اس لیے طیارہ حادثے کا شکار ہوا۔

میڈيا رپورٹس کے مطابق پاکستان ائیر لائن کے طیارے کی تفتیش میں نئے انکشافات ہوئے ہیں۔ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم نے دوران تفتیش ائیر ٹریفک اور اپروچ کنٹرولر کو طلب کر کے دونوں سے سوال جواب کیے تھے، دونوں نے تحریری جواب تحقیقاتی ٹیم کو جمع کروا دیے ہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پائلٹ نے ہماری ہدایات کو بار بار نظر انداز کیا جس کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔

دونوں کنٹرولرز نے جواب میں مزید لکھا کہ کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ سے پہلے طیارے کی اونچائی 1800 فٹ ہونی چاہیے تھی لیکن پائلٹ اس وقت جہاز کو 3000 فٹ کی اونچائی پر اڑا رہا تھا، ہماری ہدایت پر کپتان نے کہا کہ وہ لینڈنگ کرتے وقت اونچائی اور سپیڈ کو کنٹرول کر لے گا، لیکن وہ نہ کر سکا۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثے کی جگہ پر مسلسل 3 روز سے مفت پانی تقسیم کرنے والا غریب لڑکا

تحریری جواب کے مطابق پائلٹ لینڈنگ کرتے وقت سپیڈ اور اونچائی کنٹرول کر رہا تھا جس کے دوران وہ لینڈنگ گیئر کھولنا بھول گیا، پائلٹ نے پہلی بار لینڈنگ گیئر کھولے بغیر ہی لینڈنگ کروا دی تھی جس کی وجہ سے جہاز کے دونوں انجن رن وے پر ٹکرائے تھے ، جس کی وجہ سے چنگاریاں نکلیں اور پائلٹ نے دوبارہ ٹیک آف کر لیا۔ کپتان نے دوبارہ لینڈنگ سے قبل بتایا کہ جہاز کے دونوں انجن کام نہیں کر رہے لیکن پائلٹ نے ہمیں دوبارہ لینڈنگ کرنے کے بارے میں نہیں بتایا تھا بس اتنا کہا کہ وہ پر سکون ہے۔