سچ بولنے پر مجھ سے کپتانی چھین لی گئی تھی، یونس خان

اسلام آباد: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ سچ بولنے پر مجھ سے کپتانی چھین لی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق یونس خان نے ایک خلیجی اخبار کو انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ میں نے ٹیم کے ایک ایسے گروپ کی نشاندہی کی تھی جو اپنی صلاحیتوں کے مطابق سو فیصد کارگردگی نہیں دیکھا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی میں آپکو ایسے حالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہےکہ جب آپ سچ بولیں تو آپکو پاگل قرار دے دیا جاتا ہے، میرا یہ قصور تھاکہ میں نے 6 سے7 لوگوں کے ایسے گروپ کی نشاندھی کی تھی جو ملک کے لیے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال نہیں کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ارطغرل غازی کے پروڈیوسر نے پاکستانیوں کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ظاہر کر دی

یونس خان نے بتایا کہ بعد میں ان لڑکوں نے مجھ سے افسوس بھی کیا کہ ان کی وجہ سے میرے ساتھ ایسا ہوا اور ہم ساتھ میں کھیلتے بھی رہے، لیکن مجھے افسوس نہیں تھا کیونکہ میں جانتا تھا میں نے کچھ غلط نہیں کیا، کیونکہ میرے والد نے یہی سکھایا کہ ہمیشہ سچ بولو اور عاجزی کے ساتھ ملو۔