پی آئی اے کا طیارہ گرنے کی آخری فوٹیج سامنے آ گئی

پی آئی اے کا طیارہ لاہور سے کراچی آ رہا تھا جس میں 160 مسافروں کی گنجائش تھی لیکن کورونا وائرس کے باعث اس میں سماجی فاصلے کے تحت صرف 91 مسافروں کو سوار کیا گیا تھا اور ان کے علاوہ 7 عملے کے اراکین اور دو پائلٹ بھی شامل تھے ۔

میڈیا کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارے کے ایک انجن میں آ گ لگی ہوئی تھی اور دھواں نکل رہا تھا اتنی دیر میں ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی ،جس کے بعد طیارہ اچانک ہی نیچے گر گیا ۔

کراچی کی ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہونے والا طیارہ کیپٹن سجاد گل اور فرسٹ آفیسری عثمان اعظم اڑا رہے تھے جو کہ لینڈنگ سے عین چند لمحے قبل حاد ثے کا شکار ہو گیا ۔ ان کے علاوہ جہاز کے عملے میں فرید احمد چوہدری ، عبدالقیوم ، ملک عرفان ، مدیحہ ارم اور آسماءشہزادی شامل ہیں ۔ پی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیاہے کہ پی کے 8303 فلائٹ لاہور سے کراچی آ رہی تھی جو حادثے کا شکار ہو گئی۔

طیارہ جب کراچی پہنچا اور لینڈنگ کی تیاری کرنے لگا تو پائلٹ نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ جہاز کے لینڈنگ گیئر نہیں کھل رہے ہیں جس پر پائلٹ کو مزید ایک اور چکر لگانے کی ہدایت گی گئی لیکن جس وقت طیارہ ایک اور چکر لگانے کے بعد واپس لینڈنگ کرنے لگا تو گھروں سے ٹکرا گیا اور گر کر تباہ ہو گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں