داڑھی ہونے کی وجہ سے ہندو وکیل کو مسلمان سمجھ کر پیٹ دیا

نئی دہلی: بھارت میں ہندو وکیل کو پولیس نے داڑھی ہونے کی وجہ سے مسلمان سمجھ کر پیٹائی کر دی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک شہری دیپک علاج کی غرض سے سرکاری ہسپتال جارہا تھا راستے میں پولیس نے اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس افسران نے دفاع میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دیپک کو مسلمان سمجھ لیا تھا اس لیے پیٹ دیا۔

جس پر وکیل نے پولیس کے خلاف ابف آئی آر درج کروا دی تھی اور اب پولیس کی جانب سے دیپک نامی وکیل پر ایف آئی آر واپس لینے کے لیے دباؤ بھی ڈالا جارہا ہے۔

پولیس والوں پر الزام ہے کہ انہوں نے دیپک کی پٹائی صرف اس لیے کی کیونکہ حلیہ سے وہ مسلمان لگ رہا تھا، اس معاملے میں پولیس انتظامیہ نے ایک اے ایس آئی کو معطل بھی کردیا۔

میڈیا کے مطابق دیپک پر تشدد کا واقعہ 23 مارچ کو پیش آیا تھا، وہ اس دن علاج کے لیے سرکاری ہسپتال جارہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اہم اسلامی ملک میں چمکادڑیں پھر سے کھائی جانے لگیں،جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

دیپک ذیابیطس کا مریض ہے اس وقت تک لاک ڈاؤن نافذ نہیں ہوا تھا تاہم مدھیہ پردیش میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی تھی۔

خیال رہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانا کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے قبل بھی ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں